World

چار ملکی وزرائے خارجہ, پاکستان، سعودی عرب ، ترکی اور مصر

ورلڈ ( ایم پلس نیوز )
ترکی کے شہر اناطولیہ میں چار ملکی وزرائے خارجہ, پاکستان، سعودی عرب ، ترکی اور مصر شامل ہیں.
ترکی اور مصر کی, خواہش ہے کہ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے میں انہیں بھی شامل، کیا جائے.
اس خواہش کا اظہار قطر کی جانب سے بھی, کیا جا چکا ہے.
سعودیہ ، مصر اور ترکی کو بطور مبصر بلایا تھا، وہاں یو اے ای کو بلکل بھی دعوت نہیں دی، اطلاعات کے مطابق یو, اے ای نے اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ اسے اس اہم سفارتی عمل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ ناراضگی صرف رسمی نہیں بلکہ اس کے, ساتھ ایک عملی قدم بھی دیکھنے میں ایا,جب یو اے ای نے پاکستان سے 3.5 ارب ڈالر کے قرض, کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ حیران کن طور پر پاکستان نے یہ رقم فوری طور پر واپس کر دی، جس سے واضح ظاہر, ہوتا ہے کے پاکستان کس حد تک مضبوط ہو چکا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سفارتی خود مختاری کا, بھی ایک واضح اشارہ ہے اگر ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان, اور یو اے ای کے تعلقات ہمیشہ قریبی رہے ہیں۔ یو اے ای نے مشکل معاشی, حالات میں کئی بار پاکستان کی مدد کی، جبکہ لاکھوں پاکستانی, وہاں روزگار کے مواقع سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔تاہم حالیہ برسوں, میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک توازن نظر ایا ھے جہاں وہ صرف ایک یا دو اتحادیوں تک محدود, نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی دائرہ کار میں خود کو منظم کر رہا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں روس اور چین کی, شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے, دوسری جانب سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کی موجودگی خلیجی توازن کو برقرار رکھنے کی, کوشش بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایسے میں یو اے ای کا خود کو نظر, انداز محسوس کرنا ایک فطری ردعمل ہو سکتا ہے،
مگر سفارت کاری میں, فیصلے اکثر وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں, پاکستان کی جانب سےUAI کا قرض فوری واپس کرناایک جرات مندانہ قدم ہے، جو یہ, ظاہر کرتا ہے کہ ملک اپنی خارجہ پالیسی کو مالی دباؤ سے آزاد رکھنا چاہتا ہے۔یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل ضرور ہو سکتا ہے مگر طویل, مدتی لحاظ سے یہ خود مختاری کی علامت بن سکتا ہے اخر میں یہ کہا جا سکتا ہے ‏کہ موجودہ صورتحال, کسی ایک ملک کی ناراضی یا خوشی سے, بڑھ کر ایک بڑی سفارتی بساط کا حصہ ہے، جہاں, ہر چال سوچ سمجھ کر کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستان, اگر اس توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف, خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم, ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے..

ایم پلس نیوز ٹی وی

mplusnewstv.official@gmail.com

Media

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

RETURNING FOR ANOTHER TRIP?