لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف رواں دواں،
پاکستان تحریکِ انصاف ” اور حکومت کے درمیان مذاکرات، کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا, جبکہ اس دوران فریقین ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام عائذ کرتے ہوئے، اپنے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر رہے ہیں۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کآ آغاز اتوار کی، دوپہر ایسے وقت میں کیا ہے، جب جمعہ اور سنیچر کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات ناکام رہے تھے۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
وفاقی وزیرِ داخلہ, محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کی شب مذاکرات میں ” 99 فیصد معاملات طے، پا چکے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا” جبکہ تحریکِ انصاف کا کہنا ہے, کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ, عمران خان تک رسائی کا بنیادی مطالبہ تسلیم نہ کرنا, اور شدت پسندی سے نمٹنے سے متعلق حکومتی مطالبے سے تھا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
مذاکرات،” میں حکومت اور اس کے اتحادی وفد کی نمائندگی رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے، جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی” بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا, اور حلیم عادل شیخ شامل،،
مذاکرات میں شامل حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے اتوار کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذاکرات میں ہونے والی، بات چیت کی تفصیلات اور ڈیڈ لاک کی وجوہات بیان کی ہیں۔”
تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کے رُکن اور سینیئر رہنما عامر ڈوگر کے مطابق, کئی معاملات پر بات چیت ہوئی، بعض نکات پر اتفاق بھی ہو گیا، جبکہ کچھ معاملات پر گفتگو جاری تھی۔” لیکن تین بنیادی وجوہات تھیں جن پر ڈیڈلاک ہوا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
سب سے پہلے” عمران خان صاحب سے ملاقات، جس پر حکومت راضی نہیں ہوئی۔ "دوسری وجہ عمران خان صاحب کی صحت، علاج معالجہ اور ذاتی معالجین” کو سابق وزیر اعظم تک رسائی سے متعلق تھی،” تاہم حکومت اس پر بھی آمادہ نہیں ہوئی۔”
” تیسری وجہ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور دہشت گردی سے متعلق پالیسی تھی،” جس پر ہمارا مؤقف تھا کہ کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہ کیا جائے,” اور اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے” کر مشترکہ اور متفقہ لائحۂ عمل بنائے۔ تاہم, حکومت اس معاملے پر وسیع مشاورت کے بجائے” 72 گھنٹوں میں جلد بازی سے فیصلے کرنا چاہتی تھی، جس پر مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
