ظالم ٹھیکے دار نے معصوم یتیم بچے کو کچل ڈالا
ملزمان نے قتل کرنے کی نیت سے گاڑی وسیم عباس پر چڑھا دی،اور وہ معصوم یتیم بچہ ہلاک ہو گیا

ایم پلس نیوز ٹی وی
پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس کے مناظر گلی کے، ایک گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے نے، ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیے،”
ویڈیو میں کچھ ہی سیکنڈ بعد یہ واضح ہو جاتا ہے، کہ کم عمر لڑکا اسی کار میں سوار لوگوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ایک موقع پر ڈرائیور تیز رفتاری میں اپنی کار سے لڑکے کو ٹکر مار دیتا ہے۔” گاڑی اور گیٹ کے درمیان یہی لڑکا ہوتا ہے، جو کہ بے دردی سے کچل دیا،
تھانہ ڈی ایچ اے, میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے، میں مرنے والے لڑکے کی شناخت وسیم عباس کے نام سے کی گئی ہے، جس کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان

ایم پلس نیوز ٹی وی
مقدمے کے متن کے مطابق” ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پولیس کی سرکاری گاڑی گشت پر تھی، جب ایک شخص نے اہلکاروں کو بتایا کہ ان کا ماموں زاد بھائی وسیم عباس ملزمان کے پاس بطور الیکٹریشن کام کرتا تھا, ملزمان وسیم پر تشدد اور جان سے مار دینے کے درپے تھے۔ وسیم ملزمان کے، خوف اور تشدد سے، جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ کر ساتھ والی گلی میں جا رہا تھا اور دوسری طرف، ایک گاڑی میں سوار ملزمان اس کو جان سے مار دینے، کی خاطر اس کا پیچھا کر رہے تھے۔”ایف آئی آر میں لکھا ہے، کہ ملزمان نے قتل کرنے کی نیت سے گاڑی وسیم عباس پر چڑھا دی، جس سے اس کا سر کوٹھی کے گیٹ کے پلر کے ساتھ لگا، اور اس کا سر کچلا گیا جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔”
مقدمے کے متن کے مطابق؛ عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے, کہ اس واقعے کے بعد ملزمان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے بھاگنا چاہتے تھے, مگر گاڑی سٹارٹ نہ ہونے, کی وجہ سے گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے لگے۔”
اس دوران اہلِ علاقہ نے، ایک ملزم پر قابو پا لیا جبکہ دوسرا جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔
پولیس نے یہ کار بطور ثبوت اپنے قبضے میں لے لی ہے، جبکہ وسیم کے رشتہ داروں نے مظفر گڑھ کے آبائی گاؤں میں ان کی تدفین کر دی ہے۔”
ادھر ملتان پولیس کا کہنا ہے, کہ گرفتار ملزم اور کار کے ڈرائیور کا دعویٰ ہے، کہ اس نے وسیم کو دانستہ طور پر قتل نہیں کیا، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دوڑتے ہوئے لڑکے کے آگے گاڑی کھڑی کر کے انھیں روکنا چاہتے تھے، لیکن گاڑی گھر کے سامنے پھسلنے کی وجہ سے لڑکے کو ٹکر لگی۔”
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وسیم نے کام سے بھاگنے کی کوشش کی تھی, اور وہ پہلے بھی کام سے بھاگ چکا تھا،۔
وسیم عباس کو یتیم خانے سے ٹھیکیدار کے پاس بھجوایا گیا،
ملتان کے سٹی پولیس آفیسر اختر فاروق نے بتایا کہ، اس واقعے کے بعد ایک ملزم، جو کار کا ڈرائیور تھا، کو گرفتار کر لیا گیا، جس کو عدالت پیش کر کے، چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ جبکہ دوسرا ملزم مفرور ہے، اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، عدالت پیشی کے دوران وکلا اور شہریوں کی بڑی تعداد نے اس ظالم قاتل ٹھیکے دار کی چھترول کردی ، پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے، کہ وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی، ملتان کے یتیم خانے میں رہتے تھے۔”
وسیم کے رشتہ داروں نے میڈیا کو بتایا, کہ وسیم کے والد کچھ سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔ وسیم اور اس کے چھوٹے بھائی کو پانچ سال پہلے، ان کی والدہ نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر ایک یتیم خانے میں داخل کروا دیا تھا۔”
وسیم عباس کے بزرگ نانا غلام شبیر کا کہنا ہے کہ، جب ان کی بیٹی کے خاوند کی وفات ہوئی تو بیٹی نے دوسری شادی کر لی اور دونوں نواسوں کو یتیم خانے بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں پڑھ لکھ جائیں، ان کا الزام ہے کہ ظالم ٹھیکیدار سخت گیر انسان تھا جو یتیم خانے کے بچوں کو سستی لیبر سمجھتے ہوئے، ان سے ٹریننگ کے نام پر کام کرواتا تھا۔”
پولیس کے مطابق, وسیم کو سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے، ملزم کے پاس بھیجا گیا تھا،ملزم ٹھیکیدار ہے جو مختلف عمارتوں میں، بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔”
آفیسر اختر فاروق کا کہنا ہے، کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، کہ وہ کس اختیار کے تحت یہاں مقیم لڑکوں کو پرائیویٹ افراد کے پاس بھجواتے رہے ہیں، اور اس بارے ان کا ٹھیکیداروں سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ نہیں۔
انھوں نے واضح کیا ہے، کہ اگر یتیم خانے کی انتظامیہ کا کوئی قصور پایا گیا، تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔”
پولیس کے مطابق یتیم خانے کے انچارج جواد حیدر نے, پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے، یہ لڑکا ٹھیکیدار کو دیا تھا مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ، اس کے ساتھ کیا برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یتیم خانے میں رہنے والے لڑکوں کو چھوٹے موٹے ہنر سکھانے کے لیے، کچھ افراد کے پاس بھجوایا جاتا ہے، جو کہ ان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنا سکیں تاکہ، یہ لڑکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے، کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں یہ ظلم ہر روز ہر جگہ ہو رہا ہے, کچھ تو کیمرے میں نظر آ جاتا ہے، جو ہم سب دیکھ لیتے ہیں، اور کچھ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل دور کہیں ہٹ کر ہو رہا ہوتا ہے، جو شاید ہم دیکھ نہیں پاتے،”

ایم پلس نیوز ٹی وی
