Home

سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی؛ تدفین مشہد میں حرم امام رضا میں، کر دی گئی؛

ایم پلس نیوز ٹی وی

رپورٹ: خدیجہ ارشد

جمعرات کی شام؛ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی؛ تدفین مشہد میں حرم امام رضا میں، کر دی گئی؛ اور یوں سات روز پر محیط اُن کی اور اُن کے اہلخانہ کی آخری؛ رسومات کا اختتام ہو گیا جن کا آغاز تین جولائی کو تہران سے ہوا تھا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی؛ جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے؛ ابتدائی گھنٹوں میں ہی اُس وقت شہید ہو گئے تھے جب اُن کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

علی خامنہ ای کی؛ ہلاکت کے 125 روز بعد، یعنی تین جولائی کی صبح، پہلی مرتبہ اُن کا اور اُن کے ساتھ مارے؛ جانے والے اُن کے اہلخانہ کے تابوت تہران میں ’امام خمینی مصلٰی‘ میں منظر عام پر آئے تھے۔ اِن 125 روز کے دوران سابق رہبر اعلیٰ کی میت کہاں اور کیسے؛ محفوظ رکھی گئی، اِس کے بارے میں ایرانی حکام نے کوئی خاص وضاحت تاحال پیش نہیں کی۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

امام خمینی مصلٰی میں سامنے آنے والے پانچ تابوت، جو ایرانی پرچم میں لپٹے ہوئے؛ تھے، یہ معمول کے تابوتوں سے بلند تھے اور انھیں شیشے کے مخصوص سانچوں میں رکھا گیا تھا۔” سکیورٹی خدشات کے علاوہ، شیشے کے اِن سانچوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر اُن میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام موجود تھا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

عطار زادہ نے اِن ’شرعی ضوابط‘ کی تفصیل بیان نہیں کی تاہم انھوں نے؛ مسلمانوں میں رائج عارضی تدفین کے ایک طریقے ’ودیعه‘ کا ذکر کیا۔ سادہ الفاظ میں ’ودیعه‘ وہ ہوتی ہے؛ جب کوئی شخص اپنی کوئی چیز حفاظت کی نیت سے کسی دوسرے کے سپرد کرتا ہے۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے علی خامنہ ای کی؛ موت کا سبب بننے والی جسمانی چوٹوں کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور حکام نے؛ صرف اتنا بتایا ہے کہ کمپاؤنڈ پر دھماکوں کی شدت انتہائی زیادہ تھی۔”

اس ضمن میں ایران کے سابق رہبر اعلیٰ کی! وفات کے اعلان اور تدفین میں تاخیر کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا تعلق؛ تدفین میں تاخیر اور اس معاملے سے متعلق اسلامی اور فقہی احکامات سے تھا۔ شاید یہی وہ سوالات تھے؛ جن کی بنیاد پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے چند روز قبل ایرانی حکام نے؛ بھی اس موضوع پر وضاحت پیش کی۔”

آخری رسومات سے؛ متعلق انتظامی کمیٹی کے ترجمان ایمان عطارزادہ نے کہا کہ ’میتوں کو مذہبی اور قانونی ضوابط کے؛ مطابق انتہائی احترام اور احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ انھیں نہ کہیں دفن کیا گیا اور نہ ہی کسی مقام پر امانت کے طور پر رکھا گیا۔‘ ”

شیشے کے سانچوں میں موجود تابوت سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ؛ ممکنہ طور پر اُن میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام موجود تھا؛” عطار زادہ نے اِن ’شرعی ضوابط‘ کی تفصیل بیان نہیں کی تاہم انھوں نے؛ مسلمانوں میں رائج عارضی تدفین کے ایک طریقے ’ودیعه‘ کا ذکر کیا۔ سادہ الفاظ میں ’ودیعه‘ وہ ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی؛ کوئی چیز حفاظت کی نیت سے کسی دوسرے کے سپرد کرتا ہے۔؛

ایم پلس نیوز ٹی وی

ایم پلس نیوز ٹی وی

ایم پلس نیوز ٹی وی

Media

RETURNING FOR ANOTHER TRIP?