Home

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ”

” سعودی عرب، پاکستان، اور ترکی، نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے،

ایم پلس نیوز ٹی وی

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” اہم کیوں ہے اور یہ اسرائیل، اور ایران سمیت خطے کے لیے، کیا معنی رکھتا ہے, ؟؟

پاکستان سعودی عرب اور ترکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

اس ضمن میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے، کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردغان، اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے، جمعہ کی دوپہر مکہ میں مشترکہ دفاعی سمٹ، میں شرکت کے بعد اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

اعلامیے, کے مطابق اس معاہدے، کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف, اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ طے، کیا گیا ہے، کہ تینوں ریاستوں میں، سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

یہ معاہدہ تینوں ریاستوں، کے درمیان دفاعی، تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انھیں، مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔”

اگرچہ اس معاہدے، کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے، کا مقصد جارحیت کے کسی بھی، اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت, (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے, میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

معاہدے پر دستخط کرنے، کی باقاعدہ تقریب سے، قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں، تینوں ممالک کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

تینوں ممالک کے، دیرینہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے جاری، دفاعی تعاون کی بنیاد پر تینوں رہنماؤں، نے مکہ مشترکہ، دفاعی معاہدے، پر دستخط کیے۔”

معاہدہ ایک محفوظ، اور خوشحال مستقبل، کے حصول کی خاطر اپنی، اجتماعی سلامتی، کو مزید مستحکم کرنے، اور خطے اور اس سے باہر امن سلامتی، اور استحکام کو فروغ دینے، کے لیے تینوں ممالک، کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔‘”

ایم پلس نیوز ٹی وی

اگرچہ اس معاہدے، کی مکمل تفصیلات، تاحال سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم پاکستانی دفتر خارجہ، کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی, اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت, (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔”

دفترِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کرنے کی باقاعدہ تقریب سے قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں تینوں ممالک کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔”

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی, کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے۔”

تاہم انھوں نے واضح کیا تھا, کہ یہ معاہدہ پاکستان, اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔”

جمعۃ المبارک دن کا انتخاب کیا گیا، نماز جمعہ ایک ساتھ ادا کی

ایم پلس نیوز ٹی وی

ایم پلس نیوز ٹی وی

Media

RETURNING FOR ANOTHER TRIP?