اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے
میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں ؛آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سکھائیں۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان کی وضاحت کی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ اس پر قائم ہیں۔
انھوں نے بارہا کہا کہ؛ ان کی طرف سے کوئی ’غلط بات‘ نہیں کی گئی بلکہ ’ادارے اور ان کا دائرہ کار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ذمہ داریوں کی طرف؛ متوجہ کیا ہے تو میں اب بھی کہتا ہوں؛ کہ پالیسی ساز لوگوں کو جواب دینا چاہیے، سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں؛ لیکن آپ میرے بیان کی از خود تشریح کر کے میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں؛ کہ فضل الرحمان جھک جائے گا، سرینڈر کر جائے گا۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ’ان کو 48 گھنٹے بعد پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہےمجھے افسوس ہے کہ بدنیتی پر مبنی غلط تشریح کر کے؛ قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔”
انھوں نے اعلان کیا ہے کہ ’میں چاروں صوبوں؛ میں جاؤں گا، ان سے خطاب کروں گا؛ اور اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔”۔ خیال رہے کہ 15 جولائی کو گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے فضل الرحمان کے متنازع بیان سے متعلق درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 اگست تک جواب طلب کیا تھا۔”
رواں ماہ قصور میں پارٹی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے؛ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات پر اظہار خیال کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ ’تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو,,؟۔۔”

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔‘

’مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہدا، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے کہ جب گذشتہ ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندوں نے کئی حملے کیے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔،”

mplus news TV
