، نکات 14 پر مشتمل معاہدہ
ایم پلس نیوز ٹی وی
امریکی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،نے اس معاہدے پر باضابطہ, دستخط کیے, جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

ایم پلس نیوز ٹی وی
فرانس ، کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے، جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت، کے لیے موجود تھے۔
14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران، کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے‘ اگرچہ، امریکہ، کے لیے اس میں حصہ، ڈالنا ضروری نہیں۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

ایم پلس نیوز ٹی وی

ایم پلس نیوز ٹی وی
معاہدے ، کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔،
امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف ، اسرائیلی فوجی، کارروائیاں ایران، کے ساتھ طے پانے والے، معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ایم پلس نیوز ٹی وی
نکتہ 1 ’تمام محاذوں پر‘ تنازعے، کا خاتمہ،
معاہدے ، کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے، کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔
امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ایم پلس نیوز ٹی وی
نکتہ 1: ’تمام محاذوں پر‘ تنازعے کا خاتمہ
معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔
امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف، اسرائیلی فوجی کارروائیاں ، ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے ، کو متاثر کر سکتی ہیں۔
نکتہ 2: ’اندرونی معاملات‘ کا احترام،،
دستاویز کے متن میں جسے، امریکی ، حکام کے ساتھ ایک کال کے دوران صحافیوں کو لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا گیا، کہا گیا ہے کہ امریکہ ، اور ایران ، ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے، اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔،
نکتہ 3: 60 دن کی قابلِ توسیع مدت،،
دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات، چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے، تاہم باہمی رضامندی سے ، اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔،

نکتہ 4: امریکہ ناکہ بندی ختم کرے گا،
چوتھے نکتے ، میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ ، اپنی بحری ناکہ بندی ختم، کرنا شروع کرے گا ، اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی ، بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔
معاہدے اور ایرانی، وزارتِ خارجہ کے مطابق ، یہ ناکہ بندی مکمل طور پر 30 دن کے ، اندر ختم کر دی جائے گی۔ نقطہ 5 آبنائے ہرمز ۔ نہیں۔
امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں،، نکتہ 8: کوئی جوہری ہتھیار نہیں
ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم، کے معاملے کو حل کیا جائے گا،، نکات 9 اور 10: ’سٹیٹس کو‘
معاہدے ، کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے، متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔،
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ، نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا،، نکتہ 11: منجمد فنڈز
یہ نکتہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ رہا۔
ایران ، طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ، اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں، تاکہ ملک کو ایک، اور معاشی سہارا مل سکے،،

ایم پلس نیوز ٹی وی
