HomeWorld

فرانس کے مختلف شہروں میں کرفیو لگا دیا گیا،

تقریباً 7 لاکھ مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا،حالات کشیدہ، ہر طرف لوٹ مار،

ایم پلس نیوز ٹی وی

فرانسیسی حکام نے، ملک بھر میں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پرتشدد ہنگاموں اور لوٹ مار کے، بعد پیرس کے وسطی علاقوں اور دیگر شہروں کے بعض حصوں میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔”

پیرس، نیس، اور لیون، میں کرفیو رات” 11 بجے سے صبح” 6 بجے تک کے اوقات میں نافذ رہے گا،” جب کہ پیرس شہر کے وسطی علاقے کے کئی دیگر حصوں میں غیر مجاز اجتماعات پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔”

جنوبی فرانس، کے شہروں مارسیئ، بورڈو، نیس، اور لیون، سمیت شمالی فرانس کے شہر لِیل، اور دیگر قصبوں، میں بھی جزوی کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے، ان پابندیوں کے تحت مختلف مقامات پر نوجوانوں کی نقل و حرکت، اور اجتماعات کو محدود کیا گیا ہے۔”

ایم پلس نیوز ٹی وی

ہفتے کے اختتام پر، تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، اخراجاتِ زندگی میں اضافے، اور عوامی خدمات، بشمول اسکولوں، کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال، کے خلاف احتجاج کیا۔”

اس سے قبل وزیر داخلہ, لوراں نونیز نے اعتراف کیا تھا، کہ بعض شہروں میں پولیس صورت حال پر قابو کھو چکی ہے، بدامنی سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کے معاملے پر اپوزیشن کے سیاست دانوں نے ان پر سخت تنقید کی تھی، تاہم” صدر ایمانوئل میکرون نے، ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے،

ایم پلس نیوز ٹی وی

” فرانس کے مختلف شہروں میں بدامنی اور احتجاج کے باعث کرفیو لگا دیا گیا۔”
اس احتجاج کا آغاز گزشتہ ماہ طلبہ کے، بہتر تعلیمی حالات کے مطالبے سے ہوا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا دائرہ وسیع ہو گیا، اور اس میں دیگر مسائل سے متعلق تشویش بھی شامل ہو گئی، اس ہفتے کے اختتام پر مظاہروں میں شرکا کی تعداد بڑھانے، میں مزدور یونینوں اور مختلف احتجاجی گروپوں نے بھی کردار ادا کیا۔”

حکام کے مطابق، 3,500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے،”پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پھینکے گئے، ایک دستی بم کے دھماکے سے ایک شخص کا ہاتھ اڑ گیا تھا، ہنگاموں میں تقریباً 1,500 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔” ہوئے،

ایم پلس نیوز ٹی وی

پیر کو بحران سے متعلق ایک اجلاس کے بعد” وزیر اعظم نے کہا کہ مقامی میئرز کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے، کہ وہ جہاں ضرورت ہو، کرفیو نافذ کر سکیں۔ وزیر اعظم سیباسٹیان لوکورنو نے، ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔”
حکومت متاثرہ علاقوں کو نقصان سے بحالی میں مدد دینے کے لیے رقم مختص کرے گی.، اور اس رقم کی وصولی تشدد کے ذمہ داروں سے کی جائے گی، اس کے لیے ایک قانون نافذ کیا جائے گا، تاکہ” ایسے طریقے وضع کیے جا سکیں جن کے ذریعے املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو اس کی ادائیگی کا پابند بنایا جا سکے۔ 200 تفتیش کار سی سی ٹی وی کیمروں فوٹیج کا تجزیہ کر رہے ہیں، تاکہ ممکنہ طور پر ہنگاموں کی قیادت کرنے والے افراد کی شناخت کی جا سکے، انھوں نے ان لوگوں کے لیے جزوی بے روزگاری امدادی فنڈ کا اعلان بھی کیا، جو ہنگاموں اور لوٹ مار کے نتیجے میں کام نہیں کر سکے،”

فرانس کے ایوان ہائے، تجارت و صنعت کے سربراہ کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد سے 3,000 ہزار سے زیادہ دکانیں، اور دیگر کاروباری ادارے، براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ہنگاموں سے ہونے والے، نقصان کا تخمینہ سینکڑوں ملین یورو لگایا گیا ہے،۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

فرانسیسی حکام کے مطابق؛ لوٹ مار کے دوران چرائی گئی اشیا فروخت کے, بعض آن لائن پلیٹ فارمز پر درج پائی گئی ہیں،۔ فسادیوں کے گروہ، جن میں سے بعض نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا، اور چہرے ڈھانپنے کے لیے ماسک اور نقاب، استعمال کیے ہوئے تھے، پیرس، مارسیئ اور دیگر شہروں اور چھوٹے قصبوں، میں گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگاتے، اور کاروباری اداروں میں لوٹ مار کرتے دکھائی دیے”۔

وسطی شہر لیموژ میں ہفتے کے روز فسادیوں کی لگائی ہوئی آگ نے، انیسویں صدی کی آرائشی طرزِ تعمیر کی، حامل سٹی ہال کی عمارت کو اندر سے مکمل طور پر جلا کر تباہ کر دیا، آگ کے شعلے پھیلنے کے ساتھ ہی اس کا گھڑیال والا مینار اور چھت منہدم ہو گئے۔” فرانس میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر 140 سال پرانا بیل ٹاور آگ لگنے کے باعث زمین بوس ہو گیا،” اگرچہ فرانس میں احتجاجی مظاہرے اور بدامنی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار کی صورتحال، ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ملک گہری سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اگلے، سال اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں، جبکہ رائے عامہ کے، جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل میں ہونے والے، صدارتی انتخابات میں نیشنل ریلی کی رہنما میرین لو پین، اور سخت بائیں بازو کی، جماعت لا فرانس انسومیس کے، رہنما ژاں لوک میلانشون کے، درمیان سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔”

احتجاج پر 140 سال پرانا بیل ٹاور آگ لگنے کے باعث زمین بوس ہو گیا،”

انیسویں صدی کی آرائشی طرزِ تعمیر کی، حامل سٹی ہال کی عمارت کو اندر سے مکمل طور پر جلا کر تباہ کر دیا،

ایم پلس نیوز ٹی وی

M Plus News TV

M Plus News TV

ایم پلس نیوز ٹی وی

Media

RETURNING FOR ANOTHER TRIP?