pakistan

اشرافیہ، کے خلاف، پہلی کارروائی،

اسلام آباد ( ایم پلس نیوز ) اسلام آباد میں اشرافیہ، کے خلاف، پہلی کارروائی،
وفاقی دارالحکومت کی انتظامی تاریخ میں ایک، ایسی تبدیلی رونما ہوئی ہے جسے "ناقابلِ تصور” سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے شاہراہِ دستور پر واقع ‘ون کانسٹیٹیوشن، ایونیو’ نامی بلند و بالا عمارت کو خالی کروا کر ایک ایسی روایت کو توڑ دیا ہے، جس کے تحت بااثر طبقہ قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

اس کہانی کا آغاز 2005 میں ہوا جب کیپیٹل، ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شاہراہِ دستور پر 13 ایکڑ اراضی ‘بسم اللہ ناگرا پیراگون’ نامی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی۔ مقصد یہ تھا کہ سرینا ہوٹل کے نقشِ قدم پر یہاں ایک عالمی معیار، کا لگژری ہوٹل (گرینڈ حیات) تعمیر کیا جائے، تاکہ بین الاقوامی وفود اور عالمی رہنماؤں کی، میزبانی کی جا سکے۔ تاہم، کمپنی نے ریاست کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پسِ پشت ڈال کر ہوٹل کے بجائے، دو بلند و بالا ٹاورز میں لگژری، اپارٹمنٹس تعمیر کیے اور انہیں کمرشل بنیادوں پر فروخت کر دیا۔،
ان اپارٹمنٹس کو خریدنے والے کوئی عام شہری نہیں بلکہ ملک کے، طاقتور ترین طبقات سے، تعلق رکھتے تھے۔ یہاں ججز، جرنیلوں، بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور سابق وزرائے اعظم تک کے نام لیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیوں تک اس غیر قانونی اقدام کے خلاف کوئی بھی ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہ کر سکا۔,
اس کیس میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی ایک سنگین مثال سپریم کورٹ کے سابق جج اعجاز الاحسن کی صورت میں سامنے آئی۔ موصوف جج بننے سے, قبل اسی کمپنی کے وکیل تھے جس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ بعد ازاں، جج بننے کے بعد انہوں نے, خود اس کیس کی سماعت کی، جس کے نتیجے میں کمپنی کے خلاف کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہ آ سکا، اور اشرافیہ کا یہ غیر قانونی آشیانہ برسوں, تک محفوظ رہا۔
مارچ 2023 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کے چیئرمین نور عالم خان نے اس بدعنوانی کا سخت نوٹس لیا۔ کمیٹی نے ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ کی لیز منسوخ کرتے ہوئے سی ڈی اے کو فوری طور پر ٹوئن ٹاورز کا قبضہ لینے کا حکم, دیا۔ تاہم گزشتہ تین سالوں سے انتظامیہ بااثر افراد کے دباؤ کے باعث ہچکچاہٹ کا شکار تھی، مگر حالیہ پولیس, کارروائی سے لگتا ہے کہ اب قانون کی حکمرانی کا رخ مڑ چکا ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار اشرافیہ کے "مقدس قلعوں” پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، تو یقیناً اس کے, ٹاؤٹس اور ہمدرد چیختے چلاتے دکھائی دیں گے، لیکن ریاست کو اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اس کارروائی کو صرف ایک عمارت تک محدود, نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسلام آباد کی ’آرچرڈ اسکیم‘ (Orchard Scheme) سمیت دیگر تمام غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو بھی بلا امتیاز خالی کرانا حکومت اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
شاہراہِ دستور پر ہونے والا یہ آپریشن بظاہر اس بات کا اعلان ہے کہ قانون کا شکنجہ اب صرف غریب کی، جھونپڑی تک محدود نہیں رہے گا, بلکہ اقتدار کے ایوانوں کے قریب رہنے والوں کو بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

ایم پلس نیوز ٹی وی

mplusnewstv.official@gmail.com

Media

RETURNING FOR ANOTHER TRIP?